ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 1.58لاکھ آر ٹی ای نشستوں کیلئے 2.28لاکھ درخواستیں وصول

1.58لاکھ آر ٹی ای نشستوں کیلئے 2.28لاکھ درخواستیں وصول

Wed, 04 Apr 2018 10:37:58    S.O. News Service

بنگلورو،3 ؍اپریل(ایس او نیوز) خانگی اسکولوں میں آر ٹی ای کوٹہ کے تحت داخلوں کے لئے مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے اور مطلوبہ نشستوں کی تعداد موجود نشستوں سے بہت زیادہ ہے، اس طرح کہ ہر ایک موجود نشست کے لئے 1.44 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔محکمہ برائے تعلیمات عامہ (ڈی پی آئی) کو اس وقت آر ٹی ای کوٹہ کے تحت موجودہ 1.58 لاکھ نشستوں کے لئے کل 2.28 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔البتہ مانگ میں اس شدید اضافہ کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال پچھلے سالوں کے مقابلہ میں زیادہ تعداد میں بچے اسکولوں میں داخلے حاصل کرنے والے ہیں ، اس لئے کہ آنے والے تعلیمی سال یعنی 2017-18 میں پچھلے سال کی 1.28 نشستوں میں اضافہ کر کے انہیں 1.58 کر دیا گیا ہے۔محکمہ برائے تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سال زیادہ تعداد میں نشستیں دستیاب ہیں ، اس لئے کہ اس سال امدادی اسکولوں کے لئے اس بات کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ معاشرہ کے پسماندہ طبقات کے بچوں کو اپنے یہاں آر ٹی ای کے تحت داخلوں کے لئے تحفظات فراہم کریں ۔ حق تعلیم قانون کی دفع 12 (1) (b) کے تحت امدادی اسکولوں کے لئے یہ لازمی ہے کہ انہیں حکومت سے جو سالانہ اضافی حیثیت سے مالی تعاون حاصل ہوتا ہے اسی میں سے آر ٹی ای ضابطوں کے تحت داخلہ حاصل کرنے والے بچوں کو مفت بنیادی تعلیم کی فراہمی لازمی ہوگی اور اس کی مقدار زیادہ سے زیادہ 25 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ یعنی ان امدادی اسکولوں کو جو مالی تعاون حکومت کی طرف سے اسکولوں کو حاصل ہوتا ہے اسی کو استعمال کرتے ہوئے انہیں آر ٹی ای کے طلباء کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنی ہوگی اور انہیں اس کے لئے متعلقہ بچوں کی فیس الگ سے فراہم نہیں کی جائے گی۔اگرچہ کہ اس سال زیادہ تعداد میں نشستیں فراہم کی جا رہی ہیں لیکن کئی بچوں کے والدین اب بھی پریشان ہیں اس لئے کہ جو درخواستیں داخل کی جا چکی ہیں ان کی تعداد تقریباً دیڑھ گنا زیادہ اور اور نشستوں کی تعداد اس کے مقابلہ میں اب بھی کم ہی ہے۔پچھلے سال کئی والدین کو اس لئے بھی پریشان ہونا پڑا تھا کہ محکمہ کی طرف سے تعلیمی سال شروع ہو جانے کے بعد بھی آر ٹی ای کی کارروائیاں کی جاتی رہی تھیں جس کے نتیجہ میں ان بچوں کو جنہیں آر ٹی ای کے تحت داخلے نہیں مل سکے تھے، براہ راست اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا تھا اسی لئے ایک آٹو ڈرئیور ناگیش کمار کا کہنا ہے کہ محکمہ کو چاہئے کہ مئی کے اواخر میں جب نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگا اس سے قبل آر ٹی ای کے تحت داخلوں کی تمام کارروائیوں کو مکمل کر لے تاکہ جن بچوں کو آر ٹی ای کے ذریعہ داخلے نہیں مل پاتے ہیں ان کے والدین براہ راست کسی بھی اسکول میں اپنے بچوں کو داخل کرا سکیں۔واضح رہے کہ اس سال آر ٹی ای کے تحت داخلوں کے لئے درخواست جمع کرنے کی آخری تاریخ 28 مارچ تھی۔نیا اقدام:چونکہ پچھلے سالوں میں بڑی تعداد میں آر ٹی ای کوٹہ کے تحت وصول ہونے والی درخواستیں رد کر دی گئی تھیں ، اس سال محکمہ برائے تعلیمات عامہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بچوں کے والدین کے ناموں کو آدھار کارڈ کے علاوہ ذات اور آمدنی کے تصدیق نامہ کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھ لیا جائے گا۔ لہٰذا یہ بات ضروری ہوگی کہ درخواست فارم، آدھار کارڈ اور کیسٹ و انکم سرٹفکیٹ تینوں میں والدین کے ناموں کے ہجے بالکل یکساں ہوں۔اگرچہ کہ یہ کارروائی ہر سال کی جاتی رہی ہے لیکن اس سال اس کارروائی کو براہ راست متعلقہ محکموں سے کرائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پچھلے سالوں کی طرح اس کی جانچ کارندے نہیں کریں گے۔محکمہ برائے تعلیمات عامہ کے کمشنر پی سی جعفر نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد آر ٹی ای کوٹہ کے تحت داخلوں کو موثر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اگر ان دونوں دستاویزات میں والدین کے ناموں کے ہجے مختلف ہونگے تو اس طرح کی درخواستوں کو قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ درخواستیں خود بخود رد کر دی جائیں گی‘‘۔سابقہ دستور العمل کے مطابق آر ٹی ای کے ذریعہ اسکولوں میں داخلہ کے لئے پہلے مرحلہ کی قرعہ اندازی اپریل کے پہلے ہفتہ میں منعقد کی جانی تھی ، لیکن محکمہ کے افسران نے اشارہ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایک اور ہفتہ کے لئے آگے ہو سکتی ہے۔


Share: